کل کیا ہوگا آئینہ دیکھ لیجئے

کل کیا ہوگا ؟ آئینہ دیکھ لیجئے!!!

ویب ڈیسک: کل کیا ہوگا، کل کس نے دیکھا ہے ؟

ہمارے ہاں پھر بھی اپنے نونہالوں کے مستقبل کے بارے میں ماں باپ جتنے پریشان رہتے ہیں اس پریشانی کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے جیسے اپنے بچوں کا مستقبل ان والدین کے سامنے پڑا ہو ۔وہ تو آپ نے بھی سنا ہوگا کہ ہر بچہ اپنے باپ کا باپ ہوتا ہے اور جیسی ماں ویسی بیٹی کی مثل بھی ہم سنتے آئے ہیں تو والدین کی پریشانی کچھ غیر حقیقی بھی نہیں ہوتی،

آپ بیتی سامنے رکھ کر ہی وہ پریشان ہوتے ہیں،ان کی خواہش ہوتی ہے کہ نادانی،جوانی اور ہوش وخرد کے پورے ہونے کے زمانے میں بھی ان سے جو غلطیا ں ہوتی رہی ہیں ان کی چھاپ ان کے بچوں پر نظرنہ آئے یہ کوئی غلط بات نہیں تاہم یہاں ایک بات بھلا لی جاتی ہے کہ عمر عزیز کا ایک حصے میں جو عادتیں پختہ ہوجاتی ہیں ان سے بندہ پھر عمر بھر جان چھڑانے میں لگا رہتا ہے مگر بقول شاعر ”چھٹی نہیں یہ منہ سے کافر لگی ہوئی”ایسی ہی ایک عادت میں گرفتار باپ نے اپنے جوان بیٹے کو اپنی وراثت پھونکتے دیکھا تو آگ بگولا ہوگئے اس پر ہاتھ اٹھانے سے قبل بولے”یہ سبق کہاں سے لیا؟ برخوردار کورونا کے باعث گھر پر کلاسیں لے رہے تھے جھٹ کہا ”گھر سے”۔ باپ کا اٹھا ہاتھ ہی نہیں رکا بلکہ بیٹے کی بجائے اس کا سر بھی جھک گیا۔


تو جناب !بات یہ ہے کہ شاندار مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے سے قبل صرف بچوں کو ہی پیش نظر مت رکھیں یہ بھی یا د رہے کہ اس منصوبہ بندی میں آپ کی اپنی کون کون سی عادتین رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ان عادتوں کا قلع قمع پہلے ضروری ہے ورنہ وراثت میں نئی پو د بھی انہیں سنبھال لے تو سارے پلان ناکام ہونے کی بنیاد بھی سمجھیں آپ نے اپنے ہاتھ رکھ لی۔ کیا آپ نے نہیں دیکھ رہے کہ اپنے ہاں کے والدین آج کل بچوں سے زیادہ موبائل کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں ایسے میں بچے کیا سیکھ رہے ہیں

یہ بھی آپ بچشم خود دیکھ رہے ہیں تو مستقبل تو ان بچوں کا بھی بالکل سامنے پڑا ہوا ہے،جتنے لاتعلق ہو چکے ہیں ہم اپنے بچوں سے ہم سے کچھ زیادہ نہیں بہت زیادہ ہی یہ بچے اپنے بچوں سے لاتعلق ہی ثابت ہوں گے دوسرے الفاظ میں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں ان کی پریشانی بھی ہم سے سوا ہوگی۔ کل کیا ہوگا اور کل کس نے دیکھاہے؟اپنا کل دیکھنے کے لئے یہ آئینہ دیکھ لیجئے کل سامنے دھرا نظر آجائے گا۔