یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ روز ای وی ایم مشین کے بارے میں جو تبصرہ کیا تھا اس سے وہ لطیفہ نما واقعہ یاد آگیا ہے ‘ کہ ایک شخص آم کا پودا لگا رہا تھا ‘ وہاں سے گزرنے والے ایک اور شخص نے اسے آم کا پودا لگاتے ہوئے دیکھا تو اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا ‘ بزرگو ‘ جوپودا آپ لگا رہے ہیں اسے پھل لانے میں جانے کتنی مدت گزرجائے ‘ تب تک آپ کیا موجود ہوں گے ؟ پودا کاشت کرنے والے نے کہا ‘ یقیناً میں موجود نہیں ہوں گا ‘ مگرآج جس طرح میرے بزرگوں کے پودے درخت بن کر پھل دے رہے ہیں اور ہم ان سے مستفید ہو رہے ہیں ‘ اسی طرح آج میرے لگائے ہوئے پودے سے آنے والی نسلیں فائدہ اٹھائیں گی ‘ سو یہ جوآصف زرداری نے کہا ہے کہ ای وی ایم کا بیج بونے والے پھل نہیں کھائیں گے ‘ حکومت جس طرح ایوی ایم کے لئے زور لگا رہی ہے ‘ اس کا پھل کوئی اور کھائے گا’ آصف زرداری بڑا زیرک سیاستدان ہے۔
ان کی باتیں بہت گہری ہوتی ہیں ۔ ان کی اس بات کو لیکرتبصرہ نگار اور وی لاگرز ان کے الفاظ کے ”سمندر” میں غوطہ زن ہو کرجس قسم کی غواصی کر رہے ہیں ‘ اور تبصروں کے ”موتی” باہر لا رہے ہیں ان کے معانی تلاش کرنا اتنا کٹھن بھی نہیں ہے ‘ اس لئے تو آم کا پودا لگانے والے شخص کی پرانی کہانی یاد آگئی ‘ ان تبصروں سے واضح ہوتا ہے کہ ای وی ایم کے نتائج ”کسی اور” کی جھولی میں گریں گے اور جو بظاہر اس قانون سازی پر خوش ہو رہے ہیں ان کی کیفیت اس مصرعہ کی مانند ہو گی کہ
حیرت سے تک رہا ہے جہاں وفا مجھے
ادھر ایک جانب اپوزیشن نے اس قانون سازی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا ہے ‘ تاہم یہ اعلان صرف اعلان تک ہی محدود رہتا ہے یا واقعی عملی صورت اختیار کرتا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران تو ان کی بڑھکیں پوری قوم دیکھ چکی ہے ‘ جس پر نہایت سہولت کے ساتھ یہ ”بے لاگ” تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں
ایک بات ضمنی طور پر ضرور کہی جا سکتی ہے کہ یہ جومیاں نواز شریف کی وطن واپسی کا بیانیہ بڑے طمطراق سے آگے بڑھایا جا رہا تھا اور ”ایک پیچ پھٹنے” اور میاں صاحب کی”شرائط” ماننے کی باتیں کی جارہی تھی ‘ ان پر شکوک و شبہات کے سائے بہر صورت ایک بار پھر لہرانا شروع ہوگئے ہیں ‘ اور اپوزیشن خصوصاً نون لیگ کی تمام امیدوں پر پانی پھرنے کے آثار واضح ہوتے نظر آرہے ہیں ‘ گویا میاں صاحب کے ساتھ ”روابط” بھی ایک ٹریپ کے طور پر استعمال کیا گیا ‘ ا ور نیا جال لاتے پرانے شکاری والی صورتحال بن گئی ہے ‘ تودیکھیں کہ ”واپسی” کے بیانئے کو اب بھی اس کیفیت میں ڈھالنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے یا پھر ہمارے اپنے ہی ایک شعر کی مانند والی صورتحال بنتی ہے کہ
اک طویل خامشی
جیسے جھیل خاموشی
اب تک تو میاں صاحب کی واپسی کا بیانیہ بالکل اس کیفیت کا غماز تھا جیسے کہ مائیں بچوں کو ڈرانے کے لئے کسی پراسرار بلا کا تصور آگے بڑھانے کے لئے ایک لمبی”بائوئوئو” کی آواز نکالتی ہیں ‘ اور بچہ سہم جاتا ہے ‘ مگر اب اس”بائوئوئو” والی بلا کی اصل حقیقت طشت ازبام ہو چکی ہے ‘ اور ہمیں نہیں لگتا کہ موجودہ صورتحال میں میاں صاحب وطن واپسی کی”غلطی” کرنے پر آمادہ ہوں گے ‘ البتہ ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھراپنی تقریروں میں لہجے کی تلخی نہ صرف برقرار رکھیں بلکہ اس میں ا ضافہ کرکے”چائے کی پیالی” میں طوفان برپاکرنے کی کوشش کریں ۔ کہ بقول جون ایلیائ
آ تو جائوں مگر تمہارے خط
اہل کوفہ سے ملتے جلتے ہیں
بات تو ای وی ایم کے حوالے سے ہو رہی تھی مگر معروضی سیاسی حالات کے سہارے آگے بڑھتے بڑھتے کہاں جا پہنچی ‘ اور الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کا وہ تبصرہ یا بیان توبیچ ہی میں رہ گیا جو گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے وقت انہوں نے کمیٹی کے سامنے دیا اور کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال آئندہ الیکشن میں ہوگا یانہیں؟
اس پر فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ای وی ایم کے استعمال میں کئی چیلنجز درپیش ہیں ‘ ابھی 14 مراحل سے گزرنا ہو گا ‘ مشین سے متعلق تین سے چار پائلٹ پراجیکٹ کرنا پڑیں گے ‘ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن اس حوالے سے بعض تحفظات کا اظہار کر چکی ہے ‘ اور دوسری جانب بعض واقفان حال اس قانون سازی کو آئین سے متصادم قرار دے رہے ہیں ‘ کیونکہ الیکشن کمیشن ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے جبکہ موجودہ بل پاس کرتے ہوئے اس کے اختیارات کو نادرا کے حوالے کیا گیا جو غور طلب بات ہے۔ یعنی بقول اکبر آلہ آبادی
واہ کیا راہ دکھائی ہے ہمیں مرشد نے
کردیا کعبہ کو گم اور کلیسانہ ملا