مشرقیات

اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ عدل کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور ریاست میں عدل وانصاف کا نظام بے لاگ احتساب کے اصول پر جاری ہو۔ارشادِ ربانی ہے:اور حساب لینے کے لیے اللہ تعالی ہی کافی ہے اوربے شک، للہ تعالی ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ پس اس دنیا کا اصل محتسب اللہ تعالی ہی ہے۔ (سورہ النسا)مزید فرمایا :اللہ تعالی تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتاہے۔ اس رب کریم نے صرف اسی پر ہی بس نہیں کیا،بلکہ ایک بلند مرتبہ ذات بابرکات ،سرور کائنات حضرت محمد مصطفی ۖ کو مبعوث فرمایا،جن کی کل حیاتِ طیبہ اور تعلیمات کے تمام تر مجموعے کواگر عدل کامل کانام دیاجائے تو بے محل نہ ہوگا۔آپۖ کی شان یہ ہے کہ آپۖ نے عدل،مساوات اور احتساب کو بنیادی اہمیت دی۔ریاست مدینہ کے قیام کا بنیادی دستور بے لاگ عدل اور احتساب کو قرار دیا۔آپۖ نے ریاستِ مدینہ میں بے لاگ عدل کو نافذ فرمایا۔آپ ۖ نے دین اسلام کے اعلی و ارفع مقاصد کا واضح تعارف اور موثر ابلاغ کرتے ہوئے نوع انسانی کو کفر و شرک اور جہالت کے اندھیروں سے ہی نہیں نکالا، بلکہ طبقہ واریت کے جبر،امارت و ثروت کی برتری اور نسلی عصبیت کے زعم باطل کا خاتمہ بھی کیا۔
حضوراکرم ۖ کے لائے ہوئے نظام کی بنیاد انسانیت پر ہے اور اسلام کے تمام پہلو انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں، سزا اورجزا کاتصور صرف اسلام میں نہیں، بلکہ تخلیق انسانیت کے وقت سے یہ تصور ہردور میں رہا ہے ۔انسانی معاشرے کی بقا کا دارومدار اس کے اجزا کے مابین توازن و اعتدال پر ہوتا ہے،جب ان کے مابین عدم توازن پیدا ہو تو اسے معاشرے کے انحطاط سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر قرآن حکیم نے عدل کی عظمت و اہمیت پر زور دیا ہے۔حتی کہ انبیائے کرام کی بعثت کا مقصد نظام عدل کا قیام قرار دیا گیاہے ۔عدل کو تقوی کے قریب تر بتایا گیا ہے کہ للہ تعالی کے حضور جوابدہ ہونے کا یقین انسان کو حقوق کی ادائیگی کا شعور دیتا ہے۔
رسول للہ ۖکا پیش کردہ عدل کا نظریہ ہی حقوق و فرائض کی میزان ہے، جس معاشرے میں حقوق و فرائض کا توازن بگڑ جاتا ہے،وہاں ظلم کا نظام اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ عدل کی بالادستی،بے لاگ احتساب کے بغیر ممکن نہیں، بے لاگ احتساب کا مفہوم یہ ہے کہ کسی مفاد اور اندیشے کو خاطر میں لائے بغیر معاملات کو نمٹایا جائے۔رسول للہ ۖکا پیش کردہ عدل کا نظریہ ہی حقوق و فرائض کی میزان ہے، جس معاشرے میں حقوق و فرائض کا توازن بگڑ جاتا ہے،وہاں ظلم کا نظام اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ عدل کی بالادستی،بے لاگ احتساب کے بغیر ممکن نہیں، بے لاگ احتساب کا مفہوم یہ ہے کہ کسی مفاد اور اندیشے کو خاطر میں لائے بغیر معاملات کو نمٹایا جائے۔آپۖ نے محض عدل کی تلقین نہیں کی، بلکہ اس کی ابتدا اپنی ذات سے کی۔رسول للہ ۖنے نہ صرف عدل کی بالادستی کا نظام قائم کیا،بلکہ بے لاگ احتساب کا مثالی اسوہ بھی پیش کیا اور یہی عصر حاضر کی ضرورت ہے۔نبی اکرم ۖنے اپنے طرزِ عمل سے صحابہ کرام کو بھی عدل وانصاف کا نہ صرف یہ کہ درس دیا،بلکہ انہیں عدل وانصاف کا عادی بھی بنا یا۔ اگر ہم سیرت طیبہۖ اور حضرات خلفائے راشدین کے مثالی کردار کی روشنی میں آج کے حالات اور ماحول کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت بالکل الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔

مزید پڑھیں:  حکومتی کارکردگی کا امتحان شروع