آدھا سچ اور پورا سچ

اسلام میں سچ بولنے کی بہت تاکید آئی ہے ۔ قرآن و حدیث میں اس حوالے سے سچ بولنے کی برکات اور اس کے برعکس جھوٹ بولنے کے نتائج تفصیل کیساتھ بیان ہوتے ہیں ۔ جو خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس حوالے سے ارشاد فرمایا کہ ”سچ نجات دلاتا ہے اور جھوٹ ‘ انسان کو ہلاک کرتا ہے خاتم النبینۖ کو نبوت سے قبل اہل قریش نے جو لقب دیا تھا، وہ صادق اور امین تھا ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام اور اسلامی معاشرے کی بنیاد سچ یعنی صداقت پر رکھی گئی ہے ریاست مدینہ کے قیام کے بعد اسلام جس تیزی کے ساتھ دنیا میں پھیلا، اس کے پیچھے صداقت و امانت کی طاقت کارفرما تھی ‘ اور پھر جب امت مسلمہ زوال کی شکار ہوئی تواس کے بنیادی اسباب میں جھوٹ اوربد دیانتی کا عمل دخل سب سے زیادہ تھا ۔
پاکستان کا قیام بھی علامہ محمد اقبال اور محمد علی جناحکی جدو جہد کے نتیجے میں ہواان دونوں شخصیات کی زندگی میں پورے سچ کا عنصر غالب تھا ۔ بانی پاکستان کے حوالے سے کوئی شخص کوئی ایسی بات یا واقعہ ثابت نہیں کر سکتا جس میں جھوٹ کا شائبہ شامل ہوا ہو لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ محمد علی جناح کی وفات کے بعد پاکستان میںجھوٹ کا جو چلن شروع ہوا وہ پچھتر برسوں بعد اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ بی بی سی کے ایک سروے کے مطابق پاکستان سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والے ملکوں میں شامل ہے ۔ اس سروے میں یہ سوال بھی پوچھا گیا تھا کہ ”آپ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ اس کے جواب میں عوام نے جواب دیا تھا کہ اپنا مطلب نکالنے اور دوسروں کو دھوکہ دینے کیلئے جھوٹ بولتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ میرے گھر سے میرے بچوں کو بچپن ہی سے والدین کو جھوٹ بولتے دیکھ کر جھوٹ بولنے کی تربیت ملتی ہے۔گھر کی گھنٹی بجنے پر والد اپنے بچے سے کتنی بے باکی کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر میرا پوچھے تو کہنا کہ ابا گھر پہ نہیں یا ابا سوررہے ہیں۔ یہیں معاملات آگے بڑھتے ہیں اور پرائمری سکول سے ہائی سکول تک معصوم بچے بھی کافی تک جھوٹ بولنے کے عادی ہو جاتے ہیں ۔ یوں پورے پاکستانی معاشرے میں جھوٹ اور بددیانتی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے ۔ اس کے اثرات ہمارے معاشرے کے ہر شعبیمیںہر جگہ صاف دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے دفاتر’ بازار ، پارلیمنٹ ، عد التیں ، گھر بار، گلی محلہ الغرض ہر جگہ ‘ہر مقام پر توفیق و ضرورت دور بقدر استطاعت بے دھڑک جھوٹ بولا جاتا ہے ۔ہمارے ہاں کھانے پینے کی اشیاء بالخصوص دودھ جیسے نور خدا میں پانی ملانا ایک معمول بن چکا ہے ۔
ہمارے کارخانوںمیںدو نمبرچیزوں کی صنعت کی بھرمار ہوتی ہے ۔ ہمارے پڑوسی و دوست ملک چین کے تاجر و صنعت کار بھی ہمیں جاننے لگے ہیں جب ہمارے تاجران سے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے امریکہ اور یورپ کے لئے تیار شدہ اشیاء کے معیار سے ذرا پست معیار کی چیزیں تیار کریں تاکہ منافع زیادہ ہاتھ لگے ۔ وہ لوگ حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں کہ اپنے ہم وطنوں کو دو نمبر کی اشیاء ایک نمبرکا کہہ کر بیچتے ہیں اس سلسلے میں سب سے زیادہ خطر ناک اور قابل مذمت دوائیاں بنانے کی صنعت ہے ۔ غضب خدا کا اِن لوگوں کو کوئی خوف خدا نہیں آتا کہ غریب لوگ صحت یابی کی غرض سے دوائیں استعمال کرتے ہیں لیکن دو نمبر کی دوائی سے شفاء نصیب نہیں ہوتی ‘ اور مرض بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔
متذکرہ بالا معاملات و شعبہ جات کے علاوہ وطن عزیز کا ایک اہم شعبہ جہاںجھوٹ کا بازارہ پچھلے پچھتر برسوں سے گرم ہے ، سیاست ہے ۔ اس شعبے میں جھوٹ و مکاری کے ہاتھوں بڑے بڑے یہ شرفاء بے عزت و ذلیل ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے ۔ شہید پاکستان حکیم محمد سعید صاحب پاکستان کی سیاست کو سیاست کا ذبہ کہہ کر پکارتے تھے اور اسی بناء پراس سے کنارہ کش رہے پاکستان کے بڑے ہی نفیس اور پڑھے اور مدبر سیاستدان حسین شہید سہروردی دیار غیر میں آخری سانسیں لے کر دنیا سے رخصت ہوئے۔ اسی طرح اورکئی اور اہم واقعات ہیں جس کے سبب وطن عزیز کو بہت نقصان پہنچا’ اور وہ بھی اس لئے کہ سچ بولنے کی تاب نہ تھی ۔ لیاقت علی خان، ذو الفقار علی بھٹو ، ضیاء الحق اور بے نظیر کتنی شخصیات رخصت ہوئیں آج بھی پورا سچ سامنے نہ آسکا ۔
اسی طرح 16 ماہ قبل پاکستان میں رجیم چینج ہوئی۔ مختلف لوگ مختلف کہانیاں سنارہے ہیں، عوام اور بالخصوص نوجوانوں کے سامنے پورا سچ سامنے نہ آسکا اس لئیشاید ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ نوجوانوں کو آدھا سچ جاننے اور اس پر عمل کرنے کی بجائے پورا سچ جاننیکی بھر پور سعی کرنی چاہئے ۔ اگر چہ نوجوان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کو پورا سچ پہلی دفعہ معلوم ہوا ہے کہ وطن عزیز میں رجیم چینج کیوں اور کیسے ہوئی ؟۔ویسے یہ بات اپنی جگہ بہت اہم ہے کہ سچ بولنا ہے بہت مشکل کام! اس لئے اسلام میں ہر جگہ یا ہر وقت سچ بولنے کا حکم شاید نہیں ہے البتہ جھوٹ بولنے کی سخت ممانعت ہے اورگناہ کبیرہ میں شمار ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنے پر لعنت بھیجی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت کا مطلب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محرومی ہے ۔ ہم بحیثیت قوم کہیں اس گناہ کے مرتکب تو نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے محرومی صاف دکھائی دیتی ہے۔
کیا یہ اللہ کی رحمت سے محرومی نہیں ہے کہ ایک بہترین زرعی ملک ہونے کے باوجود غریب عوام اناج کو ترس رہے ہیں ۔ اسلام کے نام پر حاصل کئے ہوئے ملک میں مسلمان ہونے کے باوجود ہمارے دل آپس میںپھٹے ہوئے ہیں ۔ ہم ہی سے ایک الگ ہونے والا حصہ بنگلہ دیش معیشت کے لحاظ سے آگے ہے ۔ستر فیصد آبادی پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کے سبب قسم قسم کی پیچیدہ بیماریوں کی شکار ہے۔ کروڑوں بچے سکولوں میں جانے سے محروم ہیں ۔آدھی سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ یہ اور اس طرح کے دیگر لاینحل مسائل کے بارے میں ہمیں آدھا سچ بھی سننے کو ملے تو بہت غنیمت ہوگی کہ اس طرح آدھے مسائل تو شاید حل ہو جائیں بین الا قوامی سطح پر بہت سار ے واقعات اور مسائل ہیں جن کے بارے میں آج بھی نوجوانوں کو آدھا سچ بھی معلوم نہیں ۔ مثلًا لیاقت علی خان کو روس کی طرف سے دورے کی دعوت ملی تھی لیکن وہ جا نہ سکے۔اورافغانستان میں جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ چلا اس کے بارے میں نوجوانوں کو یہاں تک بتایا گیا کہ ہمیں آج تک مطالعہ پاکستان کے مضمون میں جو کچھ پڑھایا جاتا رہا ہے اس میں بھی پورا سچ بیان نہیں ہوا ہے پورا سچ صرف تاریخ بیان کرتی ہے لیکن وہ بھی تب جب افواہوں ‘ چہ میگوئیوں اور جھوٹ و افتراء کی گرد کے دبیز پردے ہٹ جاتے ہیں اور مطلع صاف ہونے لگتا ہے ۔ اگرچہ اس میں بعض اوقات صدیاں لگ جاتی ہیں۔ ایسے میں ایسے علماء اور مؤرخین کی ضرورت پڑتی ہے جوبلا خوف اور لومة لائم عوام سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ لکھیںورنہ اسلام اور پاکستان کے بارے میں لکھنے والے جو چاہیں لکھتے رہیں گے ۔عالم اسلام کے مایہ ناز عالم و مؤرخ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسی لئے کہا تھا کہ ”تاریخ جھوٹ کو کبھی قبول نہیں کرتی لیکن کبھی کھرے کو کھرا ثابت ہونے میں بھی صدیاں لگ جاتی ہیں”۔
اللہ تعالی ہمارے حال پر رحم فرمائے اور اس عظیم وطن میں ایسے لوگ پیدا ہوں کہ سچ اور حق کو قبول کریں اور سچ ہی بولنے اور اس پر عمل کرنے کو وظیفہ زندگی بنائیں۔پاکستان میں اس وقت اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اللہ کے خوف سے سچ بولیں، سچ پر عمل کریں اور سچ کی حمایت کریں اور پاکستان کے آئین پر عمل کریںکہ ہم سب اس پر عمل کے پابند ہیں کیونکہ یہ وہ عمرانی معاہدہ ہے جس پر عمل کرنے کا ہم سب اقرارکرچکے ہیں ۔ گزشتہ دن جس دیدہ دلیری کے ساتھ آئین پاکستان کی ہر سطح پر خلاف ورزی ہوئی ہے اور اب بھی دن رات ہو رہی ہے کسی طور پر بھی یہ ملک و قوم کیلئے مناسب و مفید نہیںکیونکہ یہ پھر سب گویا سچ کے خلاف ہورہا ہے ۔