اٹوٹ رشتہ

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا نوشہرہ کیساتھ 16سالہ اٹوٹ رشتہ

ویب ڈیسک: محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا نوشہرہ کیساتھ 16سالہ اٹوٹ رشتہ ،2008سے لیکر اب تک محکمہ ایکسائز کا محکمہ کسی دوسرے ضلع کے حصے میں نہیں آسکا ۔
2008میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی مخلوط حکومت قائم ہونے کے بعد ایکسائز کا محکمہ لیاقت شباب کے حصے میں آیا تھا انہوں نے 5سال اسی محکمہ کی وزارت کی ۔
اس کے بعد انتخابات ہوئے اور پی ٹی آئی کا دور شروع ہوگیا پرویز خٹک کے انتہائی قریبی ساتھی میاں جمشید الدین کاکا خیل کو کابینہ میں شامل کرتے ہوئے ایکسائز کا محکمہ تفویض کردیا گیا تھا ان کا تعلق بھی نوشہرہ سے تھا۔
2018میں عام انتخابات کے بعد محمود خان نے صوبے میں حکومت سنبھالی تاہم یہ محکمہ انہوں نے بھی نوشہرہ میں ہی رہنے دیا اور میاں جمشید الدین کاکا خیل کو دوبارہ سے محکمہ ایکسائز کا وزیر لگا دیا گیا میاں جمشید الدین کاکا خیل جون 2020میں کورونا کے باعث انتقال کرگئے جس کے بعد نوشہرہ کے ہی رکن اسمبلی میاں خلیق الرحمن کو ایکسائز کا وزیر لگا دیا گیا انہوں نے حکومت ختم ہونے تک یہی وزارت چلائی ۔
حالیہ عام انتخابات کے بعد علی امین گنڈاپور صوبے کے وزیر اعلیٰ بنے اب انکی کابینہ میں بھی یہ محکمہ نوشہرہ کے ہی پاس رہ گیا ہے اور میاں خلیق الرحمن ایک بار پھر محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے صوبائی وزیر بن گئے ہیں ۔
16سال سے یہ محکمہ نوشہرہ سے چلایا جا رہا ہے ۔توانائی، ٹرانسپورٹ اور معدنیات سمیت10محکموں کے قلمدان وزیر اعلیٰ کے پاس رہیں گے ۔

مزید پڑھیں:  غزہ میں اسرائیلی بربریت جاری ،مزید81فلسطینی شہید