کورونا احتیاط، طالب علم اور خشک روٹی کا سوال

کورونا وائرس کا پھیلاؤ جس قدر تیز ہوگیا ہے اور اموات کی شرح بھی بلند ہونے لگی ہے لیکن لگتا نہیں کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں اس طرح کا کوئی وائرس آیا ہے حالانکہ آئے روز اخبارات میں اس حوالے سے خبریں آتی ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میرے شہر کے لوگ زندگی سے اُکتا گئے ہیں یا ان کا ایمان اس قدر مضبوط اور قوی ہوگیا ہے کہ موت کا ایک دن مقرر ہونے پر وہ کامل یقین کرنے لگے ہیں، یہ برقی پیغام روزانہ بی آر ٹی میں دفتر جانے اور گھر واپس آنے والی ایک خاتون کا ہے جن کا مشاہدہ ہے کہ بی آرٹی میں سفر کرنے والی خواتین تو جیسے تیسے ماسک پہننے کی زحمت گوارا کر رہی ہیں لیکن مردوں کے کمپارٹمنٹ پر جب نظر جاتی ہے یا پھر بس سٹیشنز پر دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہی نہیں کہ شہر وباء کی زد میں ہے۔ یہ خاتون ایک ہسپتال میں کام کرتی ہیں، جہاں مریضوں کی تعداد سے زیادہ مریضوں کے احباب رشتہ دار آتے ہیں یہاں بھی وہ کم ہی دیکھتی ہیں کسی کو ماسک لگائے ہوئے جبکہ گلی محلے بازار اور مسجد میں جانے والے لوگوں کو تو گویا علم ہی نہیں کہ ماسک اور سماجی فاصلہ کورونا سے بچاؤ کا ایک طریقہ ہے۔ میرے خیال میں اس خاتون کے مشاہدات اور اس کے تاثرات کا تذکرہ ہی کافی ہے بس صرف اتنی گزارش ہے کہ سماجی فاصلہ اور ماسک کا استعمال کسی اور کے نہیں خود آپ کے اپنے مفاد میں ہے، خود کو محفوظ رکھنے اور دوسروں کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری نبھائیے احتیاط ضرور برتئے کہ ہم بس اتنا ہی کر سکتے ہیں باقی جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔ اتفاق سے اگلا میسج بھی ایک طالب کا ہے، ورسک روڈ کے ایک سکول میں زیرتعلیم نویں جماعت کے طالب علم نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر سکول بند ہوئے تو جن کے پاس آن لائن کلاسیں لینے، آن لائن لیکچر سننے اور ٹیوشن پڑھنے کے وسائل نہیں ان کا کیا ہوگا۔ پچھلی دفعہ جب سکول بند ہوئے تھے تو وسائل والے طالب علموں کا کم ہی حرج ہوا تھا لیکن مجھ جیسے طالب علم تو تعلیم سے کٹ کر رہ گئے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ احتیاطی تدابیر کیساتھ سکولوں میں پڑھائی جاری رکھی جائے، مجھے اس طالب علم اور اس طرح کے سینکڑوں طالب علموں جو محض انٹرنیٹ کی سہولت سے محرومی کے باعث تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ گئے اور کلاسز نہ لے سکے بلکہ اب بھی بہت سی جامعات میں آن لائن کلاسز ہی لگتی ہیں اور وہ اب تک محروم ہیں، ان سے پوری ہمدردی ہے، میں دعا ہی کر سکتی ہوں کہ ایسے حالات نہ ہوں کہ تعلیمی ادارے بند کرنے کی نوبت آئے، اب سکول اور تعلیمی اداروں کے بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے وہ اپنی جگہ مگر میں یہی کہنا چاہوں گی کہ جب سکول کھلے ہوں تو اپنی تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیں اور جب خدانخواستہ سکول بند ہو جائیں تو کتابوں کا مطالبہ کریں، اپنی قابلیت میں اضافہ کرنے کے مواقع تو بہرحال بند نہیں ہوں گے، مشکلات ہی میں راستہ نکل آتا ہے۔ ایک بہت ہی سادہ سا سوال ہے ایک قاری کا، انہوں نے بس صرف یہ سوال پوچھا ہے کہ تم برآمدات ودرآمدات چھوڑو خشک روٹی بھی لوگوں کو نہیں ملنے لگی ہے۔ میرے خیال میں یہ سادہ سا سوال اتنا مشکل ہے کہ حکومت اور معیشت دان اس کا جواب نہیں دے پائیں گے، ہر انسان اپنے تجربے اور حالات کے مطابق سوچتا اور سوال کرتا ہے۔ ملکی ترقی، شرح نمو اور درآمدات وبرآمدات یہ سوالات اپنی جگہ اگر کسی شہری کو خشک روٹی بھی نہ ملے تو وہ اسی کا سوال کرے گا۔ مہنگائی اور بیروزگاری اتنی ہوگئی ہے کہ اب خشک روٹی کا سوال اُٹھنے لگا ہے، میں تو بس یہی کہوں گی کہ بطور مسلمان اور بطور اشرف المخلوقات ہمیں صرف اپنا پیٹ بھرنے اور اپنے بچوں ہی کی فکر نہیں کرنی چاہئے ہم سے جتنا ہوسکے دوسروں کیلئے بھی کاروبار، روزگار اور ان کی دستگیری کے مواقع کیلئے کوشاں رہنے کی ضرورت ہے۔ شہداء کے خاندان کے ایک فرد نے شہید پیکج نہ ملنے اور دستور کے مطابق خاندان کے کسی فرد کو سرکاری ملازمت نہ دینے اور معاملے کو عدالت تک لے جانے کا تو تفصیل سے تذکرہ کیا ہے لیکن انہوں نے اپنے کسی مسئلے کا بطور خاص ذکر نہیں کیا۔ عموماً شکایت کرنے والے اپنے ہی حالات کی تفصیل بیان کرتے ہیں لیکن شہداء کے خاندانوں کی اس طرح کی وکالت پہلے کبھی کسی نے نہیں کی۔ ان صاحب کا یہ استدلال بالکل درست ہے کہ شہداء کے خاندانوں کا اس ملک وقوم، ریاست اور معاشرے پر قرض ہے کہ ان کے خاندانوں کو اور کچھ نہیں تو کم ازکم قانون کے مطابق شہدا پیکج اور خاندان کے کسی فرد کو سرکاری ملازمت دینے کا فرض پورا کیا جائے۔ شہدا فیملی اگر عدالتوں سے رجوع کر کے عدالتوں سے فیصلے لینے لگے تو حکومت، ریاست اور معاشرے کی ذمہ داریاں کہاں گئیں۔ حکومت اور تمام سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرۂ اثر میں جائزہ لیں کہ ان کے ذمے کسی شہید خاندان کا کوئی قرض تو باقی نہیں، کسی شہید کے خاندان کو ان کا جائز حق ملا ہے، کسی اہل خاندان کا سرکاری ملازمت کا کوٹہ باقی تو نہیں، جو لوگ اپنے فرض پر جان قربان کر گئے ہوں ان کے خاندان کی کفالت اور سرکاری ملازمت ان پر احسان نہیں ان کا حق ہے۔
قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 9750639 0337-پر میسج اور وٹس ایپ کرسکتے ہیں۔