5 52

فرسٹ اپریل فول

خیال رہے، آج یکم اپریل ہے کہیں ایسا نہ ہو کوئی تمہیں فرسٹ اپریل فول بنا دے۔ ہاں آج یکم اپریل ہے میں نے بیگم کی زبانی یہ بات سن کر دل ہی دل میں کہا، لوگ اس دن اپنے جاننے والوں کو بے وقوف بنایا کرتے ہیں۔ نہ صرف جاننے والوں کو بلکہ ہر ملنے ملانے والے کو، یا جو کوئی بھی ان کی کنٹیکٹ لسٹ میں موجود ہو یا اتفاق سے سر راہ چلتے چلتے کوئی ان کے ہتھے چڑھ جائے وہ اس کو آڑے ہاتھوں لیکر یوں بے وقوف بنا ڈالتے ہیں جیسے جائز ہو آج کے دن وہ سب کچھ جو محبت اور جنگ میں جائز ہوتا ہے۔ بہت برا کرتے ہیں، میرے اندر کا مولوی چیخا۔ مغرب والوں کی اندھی تقلید کرنا ان کے رگ وپے میں رچ بس گیا ہے، جانتے نہیں کیا تاریخی پس منظر ہے اپریل فول بنانے کی اس نگوڑی رسم کا۔ میرے اندر کا طالب علم بولا، بے وقوف جو ٹھہرے، نادان کہیں کے میرے اندر سے ایک اور آواز اُبھری۔ آہا ہا ہا۔ بے وقوف، نادان، بدھو، احمق، نامعقول، کم عقل، سیدھے، سادے، الو، بے عقل، بے دماغ، عقل کے اندھے، جانے ایسے اور کتنے الفاظ تھے جو نقارخانہ دل سے اُٹھتے طاغوتی قہقہوں کا روپ دھار کر آسمان کو سر پر اُٹھانے لگے۔ ارے یہ خود بے وقوف ہیں مغرب والوں کی تقلید کے رسیا۔ یہ بھلا کسی کو کیا بے وقوف بنائیں گے۔ وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ ”کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا” بے وقوف کہیں کا۔ میں نے بے وقوف بنانے والوں کو بے وقوف کہہ دیا کیونکہ وہ مغرب کی اندھی تقلید کر رہے ہیں لیکن میں ان کے حق میں بولتے ہوئے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ”کوئی مائی کا لال انہیں بے وقوف نہیں بنا سکتا”۔ بھلا وہ کیوں، اگر آپ پوچھ بیٹھیں تو ہم اس کا ٹکا سا جواب دیں گے کہ بنے بنائے بے وقوفوں کو بھلا کوئی کیا بے وقوف بنائے گا۔ وہ لوگ جو اپنے منتخب کئے ہوئے رہنماؤں کے ہاتھوں کشتہ ستم بننے کے بعد بھی ان کے جلسوں میں آوے ہی آوے کے نعرے لگانے، تالیاں پیٹنے، بھنگڑے ڈالنے اور ان کی جھولی میں اپنے ووٹ کی اجتماعی طاقت ڈال کر ان کو اقتدار کی کرسی پر بٹھانے کی حماقتیں کرنے کے عادی ہوں تو انہیں ہم کہاں کا عقل مند کہہ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں عقل مند دشمن سے بے وقوف دوست خطرناک ہوتا ہے اور کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے، اب رہی آپ کی مرضی کہ آپ سونے والے کو کھوتا کہنے کا کیا مطلب لیں، دیر تک پڑے سونے والے گھاٹے کا سودا کرتے ہیں، پاتے کچھ بھی نہیں کھوتے یا گنواتے زیادہ ہیں، ایک نیند کے ماتے یا سونے والے کے جگری دوست کو مذاق سوجھی، اس نے اس کو اپریل فول بنانا چاہا، وہ خنجر لیکر اس کی طرف بڑھا اور اس کی گردن کاٹ کر قریب ہی کہیں چھپا دی اور یہ بات سوچ سوچ کر خوش ہونے لگا کہ جب یہ اُٹھے گا اور مجھ سے اپنے سر کے بارے میں پوچھے گا کہ کدھر گیا میرا سر؟ تو میں اسے فرسٹ اپریل فول کہہ کر خوب تالیاں پیٹوں گا اور بڑا مزہ آئے گا اس سونے اور کھونے والے کو نیند کے مزے لوٹنے کا، کہہ نہیں سکتے کہ ہم سب سونے اور کھونے والوں میں سے ہیں یا اس نادان دوست کی مانند جو اپنے دوست کا سر یکم اپریل کو کاٹ کر محض اس لئے خوش ہورہا تھا کہ وہ اسے فرسٹ اپریل فول بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ گزرتے وقت کے چلتے ہاتھی کے کان میں استراحت فرمانے والے عہد حاضر کے بے خبر مسلمان زندگی کے ہر معاملے میں مغرب والوں کی تقلید کرتے نہیں تھکتے۔ ان کو خبر ہی نہیں کہ مغرب والے فرسٹ اپریل فول کا تہوار کیوں مناتے ہیں، حالانکہ تاریخ اس کا جواز پیش کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہتی ہے کہ گیارہویں صدی کے اوائل میں سپین پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا تھا جس کے بعد ان کے بادشاہ فرڈینینڈ نے اعلان کیا کہ وہ سپین کے مسلمانوں کو بحری جہاز کے ذریعے کسی دوسرے مقام پر منتقل کرکے انہیں وہاں بسانا چاہتا ہے۔ یہ سن کر لاتعداد مسلمان جہاز پر سوار ہوگئے۔ جہاز روانہ ہوا اور پھر اسے بیچ سمندر کے پہنچا کر ڈبو دیا گیا، کہتے ہیں اس دن یکم اپریل تھا اور اس دن سپین کے مسلمانوں کو بے وقوف بنا کر ان کو غرقاب کرنے پر کفار بہت ہنسے تھے اور یوں وہ ہر سال یکم اپریل کو فرسٹ اپریل فول ڈے منا کر ایک دوسرے کو خوب بے وقوف بناتے ہیں۔ مغرب کی تقلید کرنے والے اپنی دینی اور دنیاوی اقدار سے پہلو تہی کرکے مغرب زدہ معاشرہ قائم کرنے میں کس حد تک آگے جا چکے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
آج ہر کس وناکس کے ہاتھ میں موبائل سیٹ موجود ہے جب یہ اپنے موبائل پر کسی کو اُردو زبان میں کوئی ایس ایم ایس ارسال کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنی تحریر کو اُردو املا میں لکھنے کی بجائے انگریزی حروف تہجی میں لکھنے لگتے ہیں اور اسے رومن رسم الخط کا نام دیتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ انگریزی یا رومن حروف تہجی میں لکھی ہوئی کوئی تحریر ہر اس تلفظ کو ہوبہو ادا کرسکے جو اُردو املا میں آسانی سے ادا ہو سکتا ہے۔ مثلاً اگر آپ اُردو زبان کے نہایت خوبصورت لفظ ”پھول” کو رومن یا رسم الخط میں لکھیں تو وہ پھول کی بجائے فول Phool پڑھا جائیگا چنانچہ ہم نے جب کبھی بھی کسی کو رومن حروف تہجی میں پھول کہہ کر مخاطب کرنا چاہا وہ پڑھتے وقت فول ہوگیا اور جب ہم نے
ایک پھول پھول لیکر پھول کے پاس گیا، پھول نے پھول کر کہا، تم تو خود ہی پھول ہو پھول کیوں لائے ہو
جیسی عبارت یوں پڑھی جانے لگی
ایک فول، فول لیکر فول کے پاس گیا، فول نے فول کر کہا، تم تو خود ہی فول ہو، فول کیوں لائے ہو
آہ جب گلشن کی جمعیت پریشاں ہوچکی
پھول کو باد بہاری کا پیام آیا تو کیا