پشاور ہائی کورٹ

پشاور ہائی کورٹ کی دریچ چترال میں بجلی کی فراہمی کیلئے اقدامات کی ہدایت

پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں پیڈوکیجانب سے672منی مائیکرو ہائیڈروپائور پروجیکٹس مبینہ طور پر من پسند کنٹریکٹرز کو دینے کیخلاف دائررٹ درخواستوں پر پیڈو کو ہدایات جاری کی ہیں کہ اگر ممکن ہوسکے تو چترال کے علاقے دریچ میں بجلی کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

عدالت نے پیڈو سے متعلقہ آفیسر کے پیش نہ ہونے پر بھی برہمی کا اظہارکیا جبکہ سماعت 2فروری تک کیلئے ملتوی کردی۔ چیف جسٹس قیصررشید خان کی سربراہی میں قائم دورکنی بنچ نے رٹ درخواستوں پر سماعت شروع کی تو ملک محمد اجمل خان، محب اللہ تریچوی ایڈوکیٹس اور منیجر پریکیورمنٹ منی مائیکرو پیڈوانجینئرمحمد اویس ودیگر متعلقہ افسران بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ ملک اجمل خان ایڈوکیٹ کیجانب سے دائر رٹ میں موقف اپنایا گیا ہے کہ حکومت اورپیڈوکی جانب سے صوبے کے دوردرازعلاقوں کیلئے 672منی ہائیڈل پائورپروجیکٹس شروع کئے گئے تاکہ مقامی سطح پر لوگوں کوبجلی فراہم کی جاسکے ،بڈنگ میں شرط یہ رکھی گئی کہ ان پروجیکٹس میں مین کردار این جی او جبکہ سکینڈ رول کنٹریکٹر کا ہوگا اوران کنٹریکٹر زکو یہ پروجیکٹ دیاجائیگا جس نے کروڑوں کی لاگت سے 20منی ہائیڈل منصوبے کئے ہوں تاہم اس کیلئے شرط 20کی بجائے 5منی ہائیڈل پروجیکٹس کردیئے گئے تاکہ منظور نظرافراد کو یہ ٹھیکے دیئے جاسکیں۔

مزید دیکھیں :   گن پوائنٹ پر شہریوں کو لوٹنے والے 15راہزن گرفتار

رٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ یہ 23ارب روپے کا منصوبہ ہے جس میں عالمی معیار کو نہیں اپنایا گیا ،پیڈوایکٹ کے سیکشن 18کے سب سیکشن 2کے تحت پیڈوکے پاس یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ کسی کو پائور پروجیکٹ دے سکے جسے پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ عدالت کو بتایاگیا کہ 672میں سے چترال میں 81اور دیر میں 71منصوبے مکمل کئے گئے ۔ دوران سماعت پیڈو کے منیجر پریکیورمنٹ نے عدالت کوبتایا کہ ان منصوبوں سے صوبے کی 8لاکھ آبادی مستفید ہوسکے گی اور یہ منصوبے چترال، ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژنز ودیگراضلاع میں بھی کئے جائینگے۔ فیز1کے بعد اب ہم فیز2 میں داخل ہورہے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ریموٹ ایریاز میں بھی بجلی کی سہولت فراہم کرے اور اس حوالے سے اقدامات اٹھائے ۔عدالت نے اپنے حکم نامے میں قراردیا کہ چترال کے علاقے دریچ میں بھی اگر ممکن ہوتو وہاں بجلی کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

عدالت نے پیڈوکے متعلقہ آفیسر کے پیش نہ ہونے پر بھی برہمی کا اظہا رکیا دورکنی فاضل بنچ نے کیس پر مزید سماعت 2فروری تک کیلئے ملتوی کردی۔