روشن سویرا تاریکی کی دھند چھٹنے کا منتظر

انیلہ محمود.
بیرونی شورش کے مقابلے کے لیے انسان کئی قسم کے اقدامات بروئے کار لاتا ہے مگر ایک شورش انسان کے اندر بھی کبھی کبھار ضرور سر اُٹھاتی ہے ، جسے ضمیر کی آواز کہنا بجا ہو گا۔ یہ اندرونی جنگ انسان کو بے حال کر دیتی ہے ، انسان اندر سے کس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ، اُس کا اندازہ بسا اوقات انسان کے ظاہری حلئے سے نہیںلگایاجا سکتا ہے۔ یہ جنگ عموماً اس وقت چھڑتی ہے جب ماحول اور انسان کی اصل سوچ متصادم ہو ۔ ہم جو کر رہے ، جو جھیل رہے ہوں ، اُسے نہ تو ہمارا دل اور نہ ہی ہمارا دماغ قبول کر رہا ہو، مگر زندگی گزارنے کے لیے اس ماحول سے چھٹکارا بھی ممکن نہ ہو۔ ایسے میں انسان کے اندر ایک شورش برپا ہو جاتی ہے ۔ ضمیر اسے کچوکے لگاتا ہے ، اُسے اپنے اصل کی طرف بلاتا ہے اور ماحول جس کے بنا وہ سمجھتا ہے کہ اس کا گزارہ نہیں وہ اسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔ ایسی شورش کا پیدا ہونا ایک مثبت بات ہے، اگر ایسی کوئی جنگ اندر کی سرزمین پر نہ پھوٹے تو مان لینا چاہیے کہ بے ضمیری اپنے پنجے گاڑ چکی ہے۔
آج کل ہر باضمیرانسان اس شورش کا کسی نہ کسی حد تک ضرور شکار ہے ۔ ہمارے گرد و پیش کیا ہو رہا ہے ، ہمارے اپنے خود کو کھوکھلا کرنے کے لیے خود پیش پیش ہیں۔ آئے روز ہونے والے تبصرے اور تجزیے ذہن و روح کو انتشار میں مبتلا کر رہے ہیں۔ خاکم بدہن کیا ہم اپنے ہاتھوںاپنے وطن و مذہب کے بیوپاری بننے جا رہے ہیں۔ یہ اندیشہ رگِ جاں میں دوڑتے لہو کو منجمد کر دیتا ہے ، سانسوں کی تار ایسے الجھائو کا شکار ہے کہ ممکن ہی نظر نہیں آتا کہ اس الجھائو کو سلجھانے میں یہ تار ٹوٹنے سے محفوظ رہ جائے۔
نظریہ پاکستان جو ہمارے پاک وطن کی اساس ہے ، جو مکمل طور پر ہمارے مذہبی افکار کا عکاس ہے اُسے جھٹلانے کے لیے کیا کیا طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ اسے ناپسندیدگی کی سند عطاکرنے کے لیے زور و شور سے مذاکرے و مباحثے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اپنے مذہب اسلام کی من چاہی تشریح کی جا رہی ہے اور ان تشریحات کو درست ثابت کرنے کے لیے ایسی ایسی تاویلات گھڑی جاتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ تاریخ کو غلط ملط کرنے کے لیے سب کچھ زیر وزبر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کازور لگایا جارہا ہے ۔ میرے وطن کے جوانوں کے ناپختہ ذہن کی صاف ستھری سلیٹ پر جو رقم ہونے جا رہا ہے ، اس نے حقیقتاً میرے دل کو دہلا دیا ہے ۔ دکھ تو یہ ہے کہ دشمن کیا ہمارے وطن کی جڑیں کھوکھلی کرے گا، ہمارے اپنے ہی یہ کام اولین فریضہ سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔ مذہب جسے انسانی زندگی میں بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے ، اُسے پس پشت ڈال کر انسان کا ذاتی مسئلہ قرار دیا جارہا ہے۔ وہ یہ کیوں فراموش کر رہے ہیں کہ اپنے اصل سے کٹنے والوںکو دشمن وقتی طور پر اپنے مفادکے لیے استعمال کرتا ہے مگر جو اپنی بنیاد سے ہٹ جائے اس کی اہمیت کہیں نہیںرہتی اور لرزہ براندام عمارت کی مانند ہو جاتا ہے جسے تیز کا جھونکا یا زمین کی ہلکی سے لرزش ہی زمین بوس کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
اللہ پاک نے انسانی فطرت میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ اگر وہ انتہائی مایوسی اور ناامیدی کی کیفیت کا شکار ہو ، اُسے آگے کوئی روشنی نظر نہ آ رہی ہو تو اس وقت بھی اس کا دل اسے ایک امید کی طرف مائل کرتا ہے کہ اندھیر مستقبل نہیں رہنے والا، دیکھو تو سہی سامنے کتنا روشن سویرا تاریکی کی دھند چھٹنے کا منتظر ہے۔
مذہب سے دلی لگائو اور وطن سے محبت شاید میری گھٹی میں ہے ۔ لبرل فکر کے حامیوں کے نظریات جہاں دل کو رنجیدہ کیے ہوئے ہیں ۔وہیں مجھے اپنے وطن کے نوجوانوں سے امیدبھی ہے جو مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔مختلف مقابلوں میں جیت کا پرچم سربلند کر رہے ہیں،ان نوجوانوں کو دیکھ کر دل مسرت سے سرشار ہو جاتا ہے اور دل میں یہ یقین جاگزیں ہو جاتا ہے کہ یہی نوجوان ، یہی مثبت سوچ تو ہمارا اصل ہیں۔
جب تک اپنے وطن کے ترانے اور پرچم کو سربلند کرنے والے جواں ہمت ، بلند حوصلہ جوان موجود ہیں کوئی اندرونی اور بیرونی قوت ہمارے وطن کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی۔ سوال تو یہ ہے کہ کیوںہم ایسی مثبت سرگرمیوں کا آغاز نہیںکر سکتے جن کی وجہ سے ہمارے وطن کا نام بلند اور روشن ہو ۔ حریف اور بظاہر حلیف قومیں ہمیں خود سے کمتر سمجھنا چھوڑ دیں ۔ ہماری وطن سے محبت اور ہمارا جذبہ ایمانی ایک مضبوط اور مستحکم قوم کی حیثیت سے ہماری شناخت بنائے ۔ اگر چند سال قبل ستر ہزار پاکستانی قومی ترانہ پڑھنے کے لیے یک زبان ہو سکتے ہیں تو 20کروڑ پاکستانی کیوں نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا ضرور ہو گا ، بس اپنے ضمیر سے جنگ کرنے کے بجائے اس کے کہنے پرعمل کرنا ہو گا۔ یقینا روشن مستقبل ہمارا منتظر ہے۔