اور درویش کی صدا کیا ہے

پشتو زبان میںایک ضرب المثل یوں ہے کہ میں بھوک سے مر رہا ہوں اور لوگ میرے سرہانے پراٹھے ڈھونڈرہے ہیں، اس ضرب المثل کی یاد آنے کی وجہ یہ ہے کہ ہماری شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی بعض اداکارائیں ان دنوں بھی خبروں میں ان رہنے کیلئے جو حرکتیں کر رہی ہیںان سے عام لوگ کیا تاثر لے سکتے ہیں اس پر انہوں نے شاید سوچا ہی نہ ہو، مثلاً ایک جانب عام غریب مزدورکار لوگوں کی جو حالت بن رہی ہے اور انہیں دووقت تو چھوڑیں ایک وقت کا کھانا نصیب نہ ہونے کی وجہ سے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں مگر یہ پوٹاپُر خواتین ان حالات میں بھی لوگوں کو نت نئے فیشن کیلئے جس قسم کی تصویریں سوشل اور الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا کے ذریعے سامنے لارہی ہیں اس پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ
تنگدستی اگر نہ ہو سالک
تندرستی ہزار نعمت ہے
ایک ماڈل واداکارہ عائزہ خان نے کورونا کے حوالے سے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کیلئے جو تصویر میڈیا پر شائع اور وائرل کروائی ہے اس میں موصوفہ نے ایک ایسا جوڑا پہنا ہوا ہے جس سے میچ کرتا اسی کپڑے کا ماسک بھی چہرے پر پہن رکھا ہے اور اخبارات میں اس موقع پر ان کا جو بیان شائع ہوا ہے اس میں انہوں نے خواتین کو لباس سے میچنگ ماسک استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے، اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ایک نہیں کئی لباس میچنگ ماسک کیساتھ بنوائے ہوں گے، وگرنہ وہ خواتین کو ایسا مشورہ کیوں دیتیں، یوں گویا انہوں نے لباس کے انتخاب کے حوالے سے جو ٹرینڈ پہلے ہی خواتین میں چلا آرہا ہے یعنی لباس کیساتھ میچنگ جوتے، پرس اور یہاں تک کہ بعض لباسوں کیساتھ دھوپ سے بچنے کیلئے ہیٹ بھی اور بعض صورتوں میں ہم رنگ چھتریاں تک کا انتخاب فیشن کا حصہ بن جاتا ہے، موصوفہ نے اس میں ماسک کا اضافہ کر کے نئے ٹرینڈ کی بنیاد رکھ دی ہے جبکہ دوسری جانب ملک کی بیشتر آبادی بیروزگاری کے عفریت سے لڑتے ہوئے نان شبینہ کیلئے ترسنا شروع ہو چکی ہے۔ موصوفہ کی نظروں سے وہ تصویر نہیں گزری ہوگی جس میں پشاور کے گھنٹہ گھر کے قریب ایک تندور کے باہر شٹل کاک برقعوں میں ایسی کئی خواتین بیٹھی نظر آتی ہیں جو اپنے بھوکے بچوں کیلئے خیرات کی چند روٹیاں حاصل کرنے کیلئے گھنٹوں انتظار کی سولی پر لٹکی رہتی ہیں، اس اُمید پر کہ صاحبان استطاعت اگر نان فروش کو سو دوسو روپے (کم وپیش) دیں گے اور گھنٹہ دو گھنٹہ بعد جتنی رقم اکٹھی ہو جائے گی اس میں سے ہر نادار عورت کے حصے میں چند روٹیاں آجائیں گی یعنی صورتحال یہ ہو کہ یہ مجبور اور غریب خواتین چند روٹیوں کیلئے بھیک مانگنے پر مجبور ہو رہی ہوں تو ان کو ''میچنگ'' ماسک کیساتھ مختلف لباس بنانے کی ترغیب کے کیا معنی ہو سکتے ہیں؟ بقول میر تقی میر
حال بد گفتی نہیں لیکن
تم نے پوچھا تو مہربانی کی
ادھر ایک اور اداکارہ ہیں، میرا جن کو فلموں سے آؤٹ ہوئے ''صدیاں'' بیت چکی مگر ان کا کمال خبروں میں ان رہنا ہے، ان دنوں وہ امریکہ پہنچی ہوئی ہیں اور وہاں سے ایک ویڈیو کے ذریعے اپنی ''بے بسی'' کی داستان سنا کر انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے مدد طلب کرتے ہوئے وطن واپس لانے کی درخواست کی ہے، ان کی اس ویڈیو کے بعد کچھ لوگوں نے انہیں غلط بیانی کا مرتکب قرار دیا ہے اور ان کی وہاں ہوٹل میں موجودگی کو سفید جھوٹ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کسی ہوٹل میں کسمپرسی کی کیفیت میں نہیں بلکہ ''سابقہ'' منگیتر کے گھر میں موجود ہیں اور ویڈیو وہیں کسی کمرے میں بناکر اسے سوشل میڈیا پر ڈالی ہے، حقیقت کیا ہے اس کا پتہ تو آخر لگ ہی جائے گا تاہم موصوفہ جسے سکینڈل کوئین کا نام بھی دیا جاتا ہے ایک بار پھر شوبز میں ان ہونے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ جب وہ وطن واپس آجائیں گی تو کورونا کے حوالے سے قرنطینہ کی مدت کہاں گزاریں گی اور ان 14دنوں میں بھی وہ میڈیا پر چھائی رہیں گی یا پھر خاموشی سے یہ وقت گزار کر باہر نکلیں گی۔
دراصل اس قسم کے بے فکرے فنکاروں کیلئے عام حالات کے علاوہ کسی بھی قدرتی آفات کے دوران خود کو نمایاں کرنے کے مواقع مثبت پیغام لاتے ہیں مگر دوسری جانب ہمارے صوبے کے غریب فنکاروں کی حالت دیدینی ہے، ان کے گھروں میں عام دیہاڑی دار مزدوروں کی طرح بھوک کے ڈیرے دیکھے جارہے ہیں، یہ ایک ایسا سفید پوش طبقہ ہے جو مستقل آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے بھوک سے لڑ بھی نہیں سکتے (کورونا سے کیا لڑیں گے) اور کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتے کیونکہ اس بات کیلئے ان کی عزت نفس آڑے آرہی ہے، یہ زیادہ سے زیادہ حکومت ہی سے داد فریاد کر سکتے ہیں۔ پشاور کے فنکاروں کی تنظیم کے بعض عہدیدار جب سے یہ وباء پھیل رہی ہے، صوبائی حکومت سے اپیلیں کر رہے ہیں کہ صوبے کی فنکار برادری کو بھی امدادی پیکج میں شامل کر کے ان کی دادرسی کی جائے، گزشتہ روز ایک پوسٹ سوشل میڈیا (فیس بک) پر سامنے آئی جس میں حکومت پنجاب کی جانب سے وہاں کے بیروزگار ہونے والے فنکاروں کو متعلقہ آرٹس کونسلوں کے ذریعے سرکاری وظیفہ حاصل کرنے کیلئے کہا گیا ہے جبکہ ایک روز بعد یہ دعویٰ سامنے آیا کہ فنکاروں کو مستقل بنیادوں پر (پنشن کی طرز پر) امدادی رقوم دیئے جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے مگر خیبر پختونخوا میں ایسی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی ہے اور غریب فنکاروں کے گھروں میں بھوک کے ڈیرے ہیں۔ اب یہ صوبائی محکمہ ثقافت کا کام ہے کہ وہ مستحق فنکاروں کیلئے بھی امدادی پیکج کا بندوبست کرانے میں اپنا کردار ادا کر کے ڈھیروں دعائیں سمیٹیں۔
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا اور درویش کی صدا کیا ہے