Mashriqyat

مشرقیات

خوشیا ں منا لیں ، بھنگڑے بھی پورے ہوگئے،ویسے یہ بھنگڑے بھنگ پی کر ہی ڈالے جاسکتے ہیں ، ہوش وحواس میں رہنے والوں کو تو فکر لگ جانی تھی کہ تیس بتیس برس قبل روس کے ٹوٹ جانے کی خوشی میں جو بھنگ پی کر بھنگڑے ڈالے گئے تھے ان کا نتیجہ ہمارے حق میں کیا نکلا۔اب امریکہ کو شکست خوردہ ثابت کرنے پر یاران وطن کا اسرار ہے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔ اربوں ڈالرلٹانے والے امریکہ بہادر کے اداروں نے اسی جنگ سے اربوں ڈالر کمائے ہیں وہی بات ہوئی کہ ایک جیب سے نکال کے انکل سام نے ڈالر دوسری جیب میں ڈال لئے ادھر ہمارے ہاتھ کیا آیاکوئی بتائے کہ ہم بتلائیں کیا؟
صرف مہینہ ڈیڑھ مہینہ ہوا ہے او ر ہم نے رونا شروع کر دیا ہے کہ وہ جو تھوڑے بہت ڈالر تھے وہ ہمارے ہاں کے سیٹھوں نے افغان بھائیوں کے لئے چوری چھپے بھیج کر ایک طر ف گھر بیٹھے اربوں روپے نفع کمانا شروع کر دیا ہے اور دوسری طر ف اخوت کی داستان رقم کر کے ہم خرما وہم ثواب کی مثال بھی پیش کر رہے ہیںیہ اور بات کہ ادھر ڈالر نایاب ہوتا جا رہا ہے۔وہ باہر بیٹھے پاکستانی بھی زیادہ سے زیادہ ڈالر بھیجنے کا ریکارڈ پر ریکارڈ بناتے جائیں ہم نے ان کی محنت کی کمائی تیاگ دینے کی ٹھانی ہوئی ہے۔مہنگائی اور بے روزگاری کے گن گانے والوں میں اضافہ اپنی جگہ الگ توجہ طلب ہے مگر ہمیں تو ایران توران کی پڑی ہوئی ہے۔
ادھر صاف ظاہر ہے کہ انکل سام نے بھی جی میں ٹھان لی ہے کہ ہمیں ایران توران کی فکر سے آزاد کرکے اپنی حالت پر سوچنے کڑھنے کا سامان عطا کرنا ہے ،اس لئے سیانوںنے دہائی دی ہے کہ ڈالر کی اونچی اڑان بتا رہی ہے کہ ”تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں”۔اگر یقین نہیں آتا تو حال ہی میں امریکی سینٹ کی ایک کمیٹی کے دوران پیشی کے موقع پر ہمارا جو ذکر خیرپیشی بھگتنے والوں اور ان سے سوال جواب کرنے والوں نے کیا ہے اس کی روداد پڑھ لیں۔
تو جناب !روس کی شکست کا سہر ا بھی ہمارے سر رہا اور امریکہ کے خلاف فاتح بھی ہم رہے ،ان فتوحات کا صلہ کیا ملا اس سوال پر لاکھ سوچیں کچھ ہاتھ آیا ہے تو وہ وہی تباہی جو گزشتہ چالیس سال سے افغانستا ن کا مقدر رہی ہے اور ساتھ میں پاکستان بھی مقدر کے اس کھیل میں”سرخ رو”رہا۔ہزاروں ہلاکتوں اور اربوں ڈالر کے نقصان کے بعد اب بچا ہی کیا ہے کہ ہم بھی بھنگ پی کر بھنگڑے ڈالیں۔۔۔لڈی اے جمالو۔۔۔۔۔