ڈونلڈ لو بھارت میں

امریکہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو کا نام پاکستانیوں کے لئے کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔پاکستان کے گلی کوچوں میں جتنا یہ نام گونجا ہے شاید ہی کوئی امریکی اہلکار اس حد تک عوامی سطح پر زیربحث رہاہو ۔اس حوالے سے ریمنڈ ڈیوس نامی ایک کنٹریکٹر کا نام بھی چند برس قبل عوامی سطح پر زیر بحث آیا تھا مگر ڈونلڈ لو کامعاملہ اس سے بہت اوپر کی بات ہے ۔ تبدیلی ٔ حکومت کے حوالے سے ڈونلڈ لو کی پاکستانی سفیر کو دی جانے والی دھمکیاں ہی تھیں جنہیں ایک شام عمران خان نے اسلام آباد کے بڑے ہجوم کے سامنے جیب سے نکال کر لہرانے کے بعد واپس جیب میں ڈال دیا تھا ۔اس کے چند دن بعد ہی یہ نامہ پاکستان میں ایک ایسے سیاسی بحران کی بنیاد بنا تھا جس کا خاتمہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود آسانی سے ہوتا ہو ا نظر نہیں آتا ۔عمران خان نے اس خط کو سات پردوں سے نکال کر صدر مملکت اعلیٰ عدلیہ اور قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے رکھا اور جلسوں میں امریکہ سے مطالبہ کیا کہ اس اہلکار کو غیر سفارتی انداز اپنانے پر نوکری سے برخواست کیا جائے۔یوں ڈونلڈ لو کو پاکستانی عوام کہہ رہے ہیں کہ ”آگ لگا کر چھپنے والے سن میر اافسانہ ”۔ڈونلڈ لو آگ لگا کر چھپے نہیں بلکہ اپنا کام کر رہے ہیں ۔وہ پاکستان کے دائیں بائیں ملکوں میں گھوم پھر رہے ہیں مگر اس ملک میں آنے سے گریزاں ہیں جہاں ان کا نام جلسہ گاہوں میں آج تک گونج رہا ہے ۔ڈونلڈ لو نے حال ہی میں بھارت کا تین روزہ دورہ کیا ۔عمومی طور امریکہ کے اس سطح کے اہلکار بھارت کے ساتھ ساتھ لگے ہاتھوں پاکستان کا چکر بھی لگایا کرتے تھے مگر ڈونلڈ لو اس روایت کو بدلتے ہوئے اس بار بھی پاکستان نہیں آئے ۔وہ ایک وفد کے ہمراہ دہلی میں تھے جہاں انہوں نے بھارت کے اعلیٰ حکا م کے ساتھ ملاقاتیں کیں ۔یہاں سے وہ جاپان کی جانب رخت سفر باندھ چکے ہیں ۔انہوں نے بھارت کے اخبارات کو کئی انٹرویوز دئیے اور جس میں دورے کا اہم مقصد کواڈ کے معاملات کو بتایا ۔کواڈ چار ملکوں کی وہ تنظیم ہے جو چین کا گھیرائو کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے اور اس میں چین کا قریب ترین ہمسایہ ہونے کی وجہ سے امریکہ کا زیادہ تر انحصار بھارت پر ہے ۔بھارت امریکہ کو یوکرین کے معاملے پر جُل دینے میں کامیاب ہو ا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ چین کے خلاف استعمال ہونے میں وہ امریکہ کی توقعات پر کس قدر پورا اُترتا ہے ۔چینی اخبار گلوبل ٹائمز اس توقع کا اظہار کر رہا ہے کہ روس کے خلاف استعمال نہ ہو نے کے بعدبھارت کے لئے یہی اچھا ہے کہ وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے ساتھ مخاصمت رکھنے کی بجائے تعاون کا راستہ اپنائے اسی طرح وہ 2042میں اپنی ایک بڑی عالمی معیشت کے طور پر اُبھرنے کا خواب پورا کر سکتا ہے۔ڈونلڈ لو نے اپنے انٹرویو میں بھارتی صحافیوں کے سوالات کے جواب میں پاکستان کے حوالے سے بہت دفاعی انداز اپنایا ۔بالخصوص ایف سولہ طیاروں کے پرزوں کی فراہمی پر پابندی ختم کئے جانے کے حالیہ امریکی فیصلے پر تو ان کا انداز حد درجہ مدافعانہ تھا ۔ڈونلڈ لو بتارہے تھے کہ امریکہ ایف سولہ طیاروں کے پرزے فراہم کرکے پاکستان کو تحفہ نہیں دے رہا بلکہ کاروبار کر رہا ہے ۔پاکستان کے ساتھ امریکہ کا تعاون بہت محدود نوعیت کا ہے اس کے برعکس بھارت کے ساتھ تعاون وسیع تر مقاصد کے لئے ہے ۔پاکستان میں امریکہ ساری بدنامیاں مول کر ایک پسندیدہ سیٹ اپ قائم کر چکا ہے مگر اس سیٹ اپ کوعوامی قبولیت دلانے کا کوئی نسخہ امریکہ کے ہاتھ نہیں لگا ۔اُلٹا یہ کہ اس نظام کو چیلنج کرنے والا شخص روز بروز مقبول ہوتا جا رہا ہے ۔جس کی وجہ سے اس سسٹم کی حیثیت پانیوں پر تیرنے والی کاغذ کی کشتی کی ہو کر رہ گئی ہے ۔امریکہ کا کردار ایک مدت بعد پاکستان میں عوامی مقامات پر منفی انداز میں زیر بحث ہے ۔یہ بحث ایک فرد اور جماعت تک نہیں امریکہ کے رویے کی وجہ سے عوامی سطح تک پہنچ چکی ہے ۔آزادی اور غلامی کی باتیں جب جلسوں میں ہوتی ہیں تو روئے سخن امریکہ کی ہی جانب ہوتا ہے ۔پاکستان بظاہر اقتدار اعلیٰ کا حامل ایک آزاد ملک ہے مگر وہ اپنی پالیسیوں میں آزاد نہیں ۔یہ بات اب ایک پوری نسل کو سمجھ آچکی ہے ۔فی الحال یہ معاملہ حجابوں میں ہے ۔عمران خان امریکہ پر کھلے بندوں برس رہے ہیں نہ امریکہ پاکستان کے سیاسی حالات پر زیادہ تبصرہ کر رہا ہے مگر عوامی تحریک آگے چل کر امریکہ کے لئے مشکلات بھی پیدا کر سکتی ہے۔امریکہ اس خطے میں ایران سے امام خمینی کی قیادت میں چلنے والی زوردار عوامی تحریک کے نتیجے میں رخصت ہو چکا ہے اور افغانستان سے طالبان کی مسلح مزاحمت نے اسے بے دخل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔پاکستان میں امریکہ مقامی ہیئت مقتدرہ کے ساتھ اچھی سلام دعا رکھ کر عوامی جذبات کو اپنے خلاف جانے سے روکتا رہا مگر عوامی جذبات اور دلوں کے معاملات ہمیشہ کنٹرول میں نہیں رہتے کبھی نہ کبھی یہ پیمانہ چھلک بھی جاتا ہے۔پاکستانیوں کے بھڑکے ہوئے جذبات کی رواں لہر میں پیمانہ چھلک جانے کا امکان موجود ہے۔

مزید دیکھیں :   معاشی چیلنجز سے نمٹنا آسان کام نہیں