نئی پنشن سکیم

سرکاری ملازمین کیلئے نئی پنشن سکیم لانے کی تیاری

ویب ڈیسک: وفاقی حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کے تحت سرکاری ملازمین کے لئے نئی رضا کارانہ پنشن سکیم لانے کی تیاری کررہی ہے ۔
ذرائع کے مطابق تمام نئی سرکاری بھرتیاں رضاکارانہ پنشن سکیم کے تحت کیے جانے کا امکان ہے تاہم پہلے سے بھرتی سرکاری ملازمین کو پنشن بجٹ سے ہی دی جائے گی البتہ وفاقی حکومت موجودہ سرکاری ملازمین کی رضامندی سے ان کو نئی سکیم میں منتقل کرسکتی ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ ایس ای سی پی نے سرکاری اور نجی شعبے میں نئی اسکیم کا اطلاق کرنے کی تجویز دی ہے، نجی شعبہ اس وقت ملازمین کو پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی کی سہولت فراہم کررہا ہے۔
ایس ای سی پی کی تجویز ہے کہ نجی شعبہ ملازمین کو صرف رضاکارانہ پنشن سکیم دے کیونکہ پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی سے ملازمین کو ریٹائرمنٹ پرمستقل آمدن کی سہولت نہیں ملتی۔
ذرائع کے مطابق سکیم کے تحت ملازمت کی تبدیلی کی صورت میں بھی پنشن سہولت جاری رہے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ رضاکارانہ پنشن سکیم کے لیے موجودہ ملازمین سے پوچھا جائے گاکہ وہ نئی سکیم کا حصہ بنیں گے یا نہیں، اس حوالے سے فنڈ قائم کیاجارہا ہے جو ادارہ اور ملازم مل کر میچوئل فنڈ قائم کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اس سکیم کے تحت ملازمین کی تنخواہ سے جتنی رقم کی کٹوتی کی جائے گی اتنی ہی رقم حکومت ادا کرے گی اور ملازمین کو وہ رقم لازمی طور پر انویسٹ کرکے اس کی اطلاع محکمے کو دینا ہوگی، اس سکیم میں موجود سرکاری ملازم کی ملازمت ختم ہونے کے بعد اس کا تعلق حکومت سے ختم ہوجائیگا اور ملازم کی سرمایہ کاری سے آنے والی رقم سے اسے پنشن دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں 43پنشن فنڈ کام کررہے ہیں جن میں61ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، خیبر پختوخوا حکومت نے سب سے پہلے 2 سال قبل پنشن فنڈ میں سرمایہ کاری کی جہاں حکومتی ملازمین کے لیے 21 پنشن فنڈ کام کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں:  پاکستان ، خیبر پختونخوا اور پنجاب بار نے ایڈہاک ججز تعیناتی کی حمایت کردی