provincial doctors association protest kpk

لیڈی ڈاکٹرہراسگی،ہسپتالوں میں احتجاج دوسرے روزبھی جاری

ویب ڈیسک (پشاور)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چارسدہ کے ایم ایس ڈاکٹر جہانزیب کی جانب سے لیڈی ڈاکٹرز کو ہراسان کرنے کے خلاف اج دوسرے روز خیبر پختون خواہ کے تمام ہسپتالوں میں کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن کے مطابق کورٹ کجانب سے حکم امتناعی کے باوجود ایم ایس ڈاکٹر جہانزیب کی جانب سے لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کرنے کی مزمت کرتے ہیں .5 دن گزرنے کے باجود لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کرنے کی ایف ائی ار درج نہ ہوئی. میڈیکل کے شعبے مین پہلے سے خواتین ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے اوپر سے ایم ایس ڈاکٹر جہانزیب کی جانب دوران ڈیوٹی خواتین ڈاکٹرز کو ہراساں کرنے سے اب خواتین ڈاکٹرز خود کو ہسپتالوں میں غیر محفوظ محسوس کرنے لگی ہیں خواتین کی حقوق کی دعوے دار پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت میں خواتین ڈاکٹرز اب ہسپتالوں میں غیر محفوظ ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایس ڈاکٹر جہانزیب کی جانب سے اوٹ سایڈرز اور غیر متعلقہ افراد سے ہسپتال کے اہم یونٹس چلانے کی انکوائری میں سارا ملبہ کمزور ملازمین پر ڈھالنے اور ایم ایس کی جانب سے ؤڈیو آعتراف کے باوجود بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اسی غفلت کی وجہ سے دوربارہ بروقت خون نہ ملنے سے ایک خاتون اور بچہ کی ہلاکت کا افسوس ناک واقع بھی رونما ہو چکا ہے.

پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں چارسدہ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر جہانزیب کی جانب سے خواتین ڈاکٹرز کی ہراسگی کے خلاف یوم سیاہ اتوار تک منایا جائے گا ،پیر کے دن سے چارسدہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر جہانزیب کے خلاف آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے.ایم ایس ڈاکٹر جہانزیب کی جانب سے چارسدہ کی عوام وزیر قانون اور صحافیوں کو غلیظ گالیوں کی وڈیو بیان کی شدید مزمت کرتے ہیں اور ایم ایس ڈاکٹر جہانزیب کی فی الفور برطرفی کا مطالبہ کرتے ہیں.

مظاہرین نے مزید کہا کہ ایم ایس ڈاکٹر جہانزیب کی جانب سے چارسدہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو پرائویٹ کرنے اور نجکاری کی تمام کوششیں ناکام بناییں گے۔