کلیل میں غلیل

گو پت جھڑ کا مو سم ہنو ز شروع نہیں ہو ا مگر شجر سیاست کے پتے پیلے ہو نے شروع ہو گئے ہیں ،کچھ ہی عرصہ میں ورقةالشجر سے عریاں ہو جائیں گے کچھ ایساہی حال سیا ست گردی میں میں بھی چل رہا ہے کہ آڈیو اور ویڈیو کا ایک کے بعد ایک کا اسکینڈل کھمبیو ں کی طر ح جنم پذیر ہو رہا ہے ، دنیا میں اسی سے ملتا جلتا ایک آڈیو اسکینڈل واٹر گیٹ کا برآمد ہو ا تھا جس نے سارے عالم میںایک تہلکہ مچا دیا تھا اور امریکی صدر کو بھگتنا بھی پڑ گیا تھا مگر پا کستان میں تو گویا یہ مدا ری کا تما شا بن کررہ گیا ہے ، ان دنو ں جو آڈیو یا ویڈیو منظر عام پر آرہے ہیں وہ سب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے قلب گیر ہیں اب سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ایساہی کیوں ہو رہا ہے ، لیکن اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان آڈیو اور ویڈیو کے اگ جا نے سے حکومت کو کیوں چڑ ہے ، یہ معاملہ ان کے درمیان ہے جو اس کی کا شت کا ری کر رہے ہیں یا پھر ان کی ہے جن پر اس کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے ، حکومتی ایو ان کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، جب گلگت بلتستان کے چیف جج شمیم رانا کا بیان حلفیہ آیا اور بعد ازا ں ان سے متعلق آڈیو چل پڑی تو بھی سرکار کے اہلکار چیں بچین نظر آئے فیصل واوڈا جو خود الیکشن کمیشن کی پیشوں میں پھنسے ہوئے ہیں انھوں نے بھی لفاظی کی انتہا کر دی اور جسٹس شمیم رانا کے خلا ف خوب دھول جھاڑی ، بھلافیصل واوڈا سے کوئی پوچھے کہ بھائی نہ تو آپ وزیر ہیں نہ مشیریامعاون خصوصی کی چوکی سنبھالے ہوئے ہیں پھر آپ کو ایسا کیا کھٹا پڑ گیا کہ بے لفظ جسٹس شمیم رانا پر پڑگئے ، ایسا ہی کچھ ثاقب نثار کی آڈیو کے بارے میں چلا یا جا رہا ہے ، جب کہ ثاقب نثار کے بارے میں دو آڈیو آچکی ہیں ، جن کے بارے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے انتہا ئی تحمل سے جو اب دیا کہ یہ ان کی آواز نہیں ہے ، جہا ں تک عدالت سے رجو ع کر نے کا سوال ہے تو انھو ں نے بتایا کہ وہ اس
کے خلا ف قانو نی کا رروائی کر نے کے بارے میں سو چ رہے ہیں ، اب تک اس قسم کے جتنے بھی اسکینڈل منظر عا م پر آئی ہیں ، اس میں یہ مشاہدہ ہو ا ہے کہ جن کے بارے میں یہ اسکینڈل تھے وہ اتنے زیادہ نہ تو فکرمند لگے اور نہ انھوں نے ایسی برہمی کا اظہار کیا جیسی وزراء یا مشیر و معاونین کی جانب سے ہو رہا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ یہ اسکینڈل سابق جسٹس ثاقب نثار یا ایسے ہی کسی اور کے بارے میں نہیں ہے بلکہ جو اس پر اچھل رہے ہیں ان کے بارے میں ہے یا وہ ہی فریق ہیں ، ان کے طر ز عمل سے پھر سوال اٹھتے ہیں کہ ایسا کیو ں ہے ایک طر ح سے کوئی نہ کوئی آڈیو ، ویڈیو کا ڈاک خانہ آپس میں ضرور ملتا ہے کہ حکومتی وزراء کیل کانٹوں سے لیس ہوکر میدان میں کو د پڑے ہیں ۔ جس انداز میں یہ فریق بن رہے ہیں اس سے یہ بھی منکشف ہو رہا ہے کہ پس پر دہ آئینہ کوئی اور ہے یا دال میں کا لا ہے ، حالاں کہ سید ھی سی بات ہے کہ آگ جانے لو ہا ر جا نے اور دھونکنے والے کی بلا جا نے ، اس میں سر کا ر کو بھڑکنے کی کیا غرض ہے ، جس نے آڈیو یا ویڈیو جا ری کی ہے اورجس سے متعلق جا ری کی گئی ہے وہ سید ھے سیدھے فریق ہیں یہ ان کا اپنا معاملہ ہے کسی کو پرائی آگ میں کو دنے کی کیا غرض ؟۔جہا ں تک یہ فیصلہ کر نا ہے کہ کو ن سچا ہے کو ن سچا نہیں ہے ، اس کا فیصلہ عدالت کے ذریعے ہو سکتا ہے ، یہ نجی طور پر کسی فر د واحد کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ اس بار ے میں اپنا فیصلہ سنائے ، نہ کسی فر د واحد کا مئو قف قابل تسلیم کیا جا سکتا ہے ، کسی تیسرے فرد کا کام نہیں ہے کہ وہ ایسے اسکینڈل کی تصدیق
کرے یا تردید کرے ،یہ ماہر ین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بتائیں کہ آڈیو یا ویڈیو جعلی ہیں یا اصلی ہیں اور عدالت کے ذریعے فریقین فیصلہ کرائیں کہ کو ن سعد ہے نا سعد ہے ایسے معاملا ت کو جو حساسیت کا درجہ رکھتے ہیں ا ن کو سربازار گھسیٹنا ملک کے مفاد میں ہر گز نہیں ہے ۔ اس بارے میںما ہرین قانون وآئین کی رائے بھی مختلف نہیںہیں جہاں تک بیان حلفی کا تعلق ہے اس بارے میں بعض ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ایسے بیان حلفی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی کہ کوئی بھی شخص کسی نوٹری پبلک کے سامنے جاکر بیان دے ڈالے اور نوٹری پبلک اس کی تصدیق کر دے کہ اس نے من وعن یہ ہی بیا ن دیا ہے تو اس کو کوئی قانونی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے بلکہ یہ لازمی ہے کہ وہ عدالت کے روبرو پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرائے کہ یہ اس کا بیا ن حلفی ہے اور وہ اس کی تصدیق کر تاہے ، یا پھر عدالت کے روبہ رو بیا ن ریکارڈ کر ائے ، تب اس کو قانونی حیثیت مل سکتی ہے ، کنٹینر کے زما نے میں اس وقت کی حکومت پر کیا کیا الزامات نہیںلگائے گئے ان الزاما ت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے جب تک کنٹینر والے عدالت میں اپنے لگائے الزامات کو ثابت نہیں کرتے ، قومی معاملات میں غزل چھڑنا اور پھر جو اب آں غزل الاپنا کسی طور ملکی اور قومی مفاد میں سودمند قرار نہیںپاتی ،یہ عوام کے ذہنوں کو الجھا دینے کے سوا کچھ نہیں ہے ، وفاقی وزیر فواد چودھری نے درست فرما یا ہے کہ مریم نواز اور مسلم لیگ(ن) والے مقدمات میں تاریخ پر تاریخ مانگتے چلے جاتے ہیں اس طرح مقدمات کے فیصلوں میں طوالت کا باعث بن رہے ہیں یہ بات انھو ں نے مریم نو از کے وکیل کی جا نب سے اسلا م آباد ہائی کورٹ میںایون فیلڈ مقدمے کی پیشی کی تاریخ بڑھا نے کی درخواست پر کہی ، ایون فیلڈ کا کیس ہو یا منی لانڈرنگ کا مقدمہ ہو یا پھر فارن فنڈنگ کا معاملہ ہو یہ سب عوام کی توجہ کا مر کز بنے ہوئے ہیں ۔