تعلیمی ایمرجنسی وقت کا تقاضا

پاکستان کو اگر غربت، جہالت اور محرومی کی دلدل سے نکلنا اور آگے بڑھنا ہے تو اس کیلئے ایک ہی راستہ ہے کہ ملکی وسائل کا رُخ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، جدت اور کاروبار کے فروغ کی طرف موڑا دیا جائے۔اس ضمن میں قومی سطح پر تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جانی چاہیئے، جس میں پاکستان کی سٹریٹجک سمتوں کو موجودہ کم پیداوار کی حامل معیشت کو ایک بھرپور علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کیلئے کئی اقدامات شامل ہوں۔ اعلیٰ معیار کی ہائی ٹیک مصنوعات کی تیاری اور برآمدکی صلاحیت اب قوموں کی ترقی کی کلید بن چکی ہے اور ہمیں اس صف میں آنے کیلئے اپنے تعلیمی نظام کے پورے ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہوگا اور مسائل کے حل کی مہارتوں کے ساتھ ساتھ جدت پسندی اورکاروبار کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی تاکہ ہمارے طلباء نوکری کے متلاشی بننے سے نوکری دینے والے بننے کے رحجان کی طرف منتقل ہوں، قومی سطح پر تعلیمی ایمرجنسی سے مساوی بنیادوں پر اعلیٰ معیار کی تعلیم کوفروغ دیا جاسکے گا اور یونیورسٹی اور صنعت کے روابط کے ذریعے صنعتی تحقیق و ترقی اور جدت اور کاروبار کے ذریعے نئے منصوبوں ( start-ups) پربھی توجہ مرکوز ہوسکے گی، معیاری تعلیم کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ سکولوں، کالجوں اور جامعات میں تدریسی عملے کا موجود ہ معیار ہے، اگرچہ بڑے پیمانے پر اوپن آن لائن کورسزکے آغاز سے یہ مسئلہ جزوی طور پر حل ہوا ہے، ان کورسز کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے ہم نے پاکستان میں ایم آئی ٹی اوپن کورسز کی ویب سائٹ قائم کی تھی جس سے تمام متعلقہ کورسز کو ڈائون لوڈ کرکے اور انہیں کالجوں اور یونیورسٹیوں کیلئے دستیابی یقینی بنانے کی طرف اہم پیشرفت ہوئی ، مثلاً ایم آئی ٹی کے کمپیوٹر سائنس کورسز کو ڈائون لوڈ کیا گیا، دس ہزا رسی ڈیز پر کاپی کیا گیا اور پھر انہیں پاکستان کی یونیورسٹیوں میں کمپیوٹر سائنس کے تمام شعبوں کے تدریسی ممبران اور طلباء میں تقسیم کیا گیا، جامعہ کراچی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز میں واقع لطیف ابراہیم جمال نیشنل سائنس انفارمیشن سینٹر نے ”دی ہائیر ایجوکیشن نیٹ ورک” کے ذریعے اس اہم اقدام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے دو حصے ہیں، ایک حصے میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے نامور فیکلٹی ممبران کا اندراج شامل ہے تاکہ پاکستان بھر میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبا ء کو مکمل کورسز اور لیکچرز فراہم کئے جا سکیں۔ یہ خصوصی کورسز پاکستانی طلبا ء کو غیر ملکی فیکلٹی ممبران سے سوالات پوچھنے اور ان کی حکمت سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ دوسرے حصے میں بڑے پیمانے پر اوپن آن لائن کورسزکا ایک مربوط ورژن شامل ہے،اس ضمن میں ایم آئی ٹی، سٹینفورڈ، ییل، یونیورسٹی آف کیلیفورنیااور خان اکیڈمی کے ریکارڈ شدہ لیکچرز سکول سے یونیورسٹی کی سطح تک مفت دستیاب ہیں، بہت سے ایسے اسباق بھی ہیں جو ہمارے پالیسی ساز چین کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لائحہ عمل سے سیکھ سکتے ہیں، آج مضبوط معیشت کاحامل یہ ایشیائی ملک (چین ) صنعتی تحقیق و ترقی پرکسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ خرچ کر رہا ہے۔ ہائی ٹیک کے میدان میں اس کی ترقی کا انحصار آٹوموبائلز، صنعتی مشینری، انجینئرنگ کے سامان، الیکٹرانکس، بائیو فارماسیوٹیکلز، دفاعی مصنوعات، آٹوموبائل اور جدید نقل و حمل کی اشیا ء جیسے بلٹ ٹرینوں کی پیداوار اور برآمد پر ہے۔ اگرچہ ہمارے لئے سولہ کروڑ سے زائد اہل آبادی کو اعلیٰ معیار کی تعلیم کی فراہمی ایک مشکل ہدف ہے تاہم ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس بڑے چیلنج سے بہتر طور پر نمٹا جا سکتا ہے، اعلیٰ معیار کے فاصلاتی تعلیم کے پروگراموں کے ساتھ ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچنے کیلئے ہمیں اپنے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے بہترین تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کر سکیں، اس سلسلے میں چار بنیادی چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت ہے، سب سے پہلے ہمیں رابطے کو بہتر بنانا ہوگا یعنی ملک بھر میں فائبر کیبل بچھائی جا ئیں اور انٹرنیٹ کی سستے نرخوں پر دستیابی ہو ۔ دوسرا، اعلیٰ معیار کا موادکی مفت دستیابی ضروری ہے، اس سلسلے میں نالج اکانومی ٹاسک فورس نے پہلے ہی ورچوئل یونیورسٹی لاہور کے ذریعے متعدد منصوبے شروع کر رکھے ہیں اور خان اکیڈمی کے تقریبا ًتین ہزار کورسز کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا جا رہا ہے تاکہ سکول کی سطح کی تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ پاکستان میں یونیورسٹیوں کو جلد ہی فاصلاتی تعلیم کے پروگرام شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی جو کہ کم از کم کوالٹی ایشورنس کے معیار پر پورا اترے گی۔ تیسرا، اس بات کو یقینی بنانے کیلئے مناسب رہنمائی او رنگرانی کی ضرورت ہوگی کہ آیا طلبا ان کو فراہم کردہ کورس کے مواد سے مناسب طریقے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور مسائل کو حل کرنے کی مطلوبہ مہارتیں سکھ رہے ہیں۔ چوتھا، طلبا ء اپنے کاروبار شروع کرنے کیلئے درکار مہارتوں کو سیکھیں، نئے تصورات پر عملدرآمد اور کاروبار کے فروغ کیلئے ایک باقاعدہ ماحول تیار کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
( بشکریہ ، دی نیوز:ترجمہ :راشد عباسی)