کس شمار میں ہم ہیں ‘ کس قطار میں تم ہو؟

ہک واری پھر ٹماٹر، جی ہاں اب کے بھی دن ”بہار” کے یوں ہی گزر گئے ، بلکہ گزر رہے ہیں ، بھارت میں ٹماٹروں کا بحران پیدا ہو گیا ہے اور میکڈونلڈ کے بعد ایک اور فاسٹ فوڈ چین برگر کنگ نے بھی ملک (بھارت)میں بڑھتی قیمتوں کے باعث اپنے کھانوں میں ٹماٹر شامل کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ برگرکنگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی وجہ ٹماٹروں کی فصلوں کے معیار اور سپلائی کے حوالے سے غیر متوقع حالات ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ خراب موسمی حالات کی وجہ سے ٹماٹر کی فصل کو نقصان پہنچا ہے اور اس سے منڈی میں ٹماٹروں کی قلت ہو گئی ہے، رواں ہفتے کے اوائل میں امریکی فوڈ چین” سبوے” نے بھی مینو میں سے نکال دیئے تھے ۔ بدھ کو برگر کنگ نے اپنی ویب سائٹ پر اس سوال کے جواب میں کہ” میرے برگر میں ٹماٹر کیوں نہیں ؟”بتایا کہ یہ معیار کے بلند سطح کی پیروی کرتا ہے ‘اور جلد ہی مینو پر ٹماٹر واپس آجائیں گے ، تب تک ہم آپ سے صبرو سمجھ کی درخواست کرتے ہیں’جبکہ میکڈونلڈ نے شمالی اور مشرقی ریاستوں میں ٹماٹر کو مینو سے نکال دیا تھا اور اس کی وجہ سے معیار کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کو قرار دیا تھا، بھارت میں اس ”ٹماٹر گردی”کی وجوہات کچھ تو یہ ہو سکتی ہیں تاہم اس صورتحال کے ابھرنے میں ”پاکستان دشمنی کا غبار”بھی شامل ہے، اور بھارتی کسانوںکو ان کا وہ غرور بھی لے ڈوبا جو چند برس پہلے بھارتی پاکستان مخالف پالیسیوں اور پاکستان کے خلاف ان جھوٹے الزامات کے حوالے سے پروپیگنڈے سے پیدا ہوا، اور جس کی وجہ سے جب پاکستان میں ٹماٹروںکی قلت پیدا ہوئی تھی(اب بھی حالات بہت بہتر نہیں ہیں) تو بھارتی کسانوںنے اپنے ٹماٹروں کو پیروں تلے کچل کر انہیں ضائع کرنا زیادہ بہتر سمجھا بہ نسبت انہیں پاکستان برآمد کرکے پاکستان میں ٹماٹروںکی قلت میں کمی اور اپنی آمدن میں اضافہ کرنے کے ۔۔۔غرور تکبر اور نفرت کے یہ جذبات یقینا اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل نہیں رہا ہو گا’ اس لئے اس کے بعد اگلے سال بھارت میں ٹماٹروںکی بمپر فصل اگ آئی تھی مگر منڈیوں میں ٹماٹروں کے نرخ اس قدر گر گئے تھے کہ کسانوں کو فصلوں پر جتنا خرچہ کرنا پڑا تھا۔(اپنی محنت الگ)اس کے عشر عشیر قیمت بھی نہیں مل رہی تھی اور طیش میں آکر ان کسانوں نے ٹماٹروں کو ایک بار پھر گاڑیوں سے نکال نکال کر زمین پر پھینک کر ان پروہی گاڑیاں چڑھا کر ان کی”چٹنی” بنا ڈالی تھی ‘ جن گاڑیوں میں بھر بھر کر کھیتوں سے منڈیوں تک ان ٹماٹروں کوپہنچایاگیاتھا جبکہ گاڑیوں کے کرائے بھی اپنی جیب سے ادا کرنا پڑے تھے ‘ اور بے چارے ٹماٹر بھی اپنی چٹنی بنتے دیکھ کر پکار اٹھے ہوں گے کہ
عشق و حسن سب فانی ‘ پھر غرور کیا معنی
کس شمار میں ہم ہیں ‘ کس قطار میں تم ہو؟
موجودہ صورتحال کے بعد کہ جب بڑے بڑے نامی گرامی ‘بین الاقوامی فوڈ چین بھی اپنے کھانوں میں ٹماٹروں کے استعمال سے ” بہانہ بازی کرکے” ہاتھ کھینچنے پر مجبور ہوگئے ہیں ‘ ہمیں تو اس بے چارے شوہر کی فکر لاحق ہوگئی ہے جس سے اس کی اہلیہ ناراض ہو کر اسے ڈھابے پرتنہا چھوڑ کر(شاید میکے) واپس چلی گئی تھی ‘ جس کے حوالے سے ہم نے اپنے 15جولائی کو شائع ہونے والے کالم بہ عنوان”یہ تجربات کتابوں میں تھوڑی لکھے ہیں؟” میں تذکرہ کیاتھا اور بتایاتھا کہ بھارتی ریاست مدھیاپردیش کے ضلع شہدول میں ایک میاں بیوی کھانے کا ڈھابہ چلاتے تھے ‘ ٹماٹر مہنگے ہونے کی وجہ سے بیوی نے شوہر کو کھانوں میں صرف دو ٹماٹر ڈالنے کا کہا مگر شوہر مان کر ہی نہیں دے رہا تھا اور وہ سمجھتا تھا کہ بغیر ٹماٹر کے سالن کاذائقہ بن ہی نہیں سکتا ۔ یوں جب شوہراپنی ضد پراڑا رہا تو بیوی ڈھابے کو چھوڑ کرچلی گئی حالانکہ انہی دنوں یہ خبریں بھی آرہی تھیں کہ بھارت میں شادیوں پرپکائے جانے والے کھانوں کے معاملے پرشادیاں بھی خطرے میں پڑ گئی تھیں اور دلہنیں اپنے سسرال والوں سے اس لئے ناراضگی کااظہار کر رہی تھیں کہ ان کے ولیموں پر مہمانوں کو پیش کئے جانے والے کھانوں میںٹماٹروں کی کم مقدار سے کھانوں کاذائقہ نہیں بنے گا اور یوں انہیں ساری زندگی اس بات کے طعنے سننے کو ملیں گے کہ ”اری نوج ‘ تیرے سسرال والوں نے توکھانوں میں کم ٹماٹر ڈال کرتمہاری ناک ہی کٹوا دی” وغیرہ وغیرہ ‘ یعنی اس قسم کے طعنے سن کر ہمارے ہاں (صرف) خواتین ہی کی ناک کٹنے کے خطرات جنم لیتے ہیں ‘ اسی لئے ہمیں ان میاں بیوی کی فکر پڑنا بالکل فطری امر تھا جن کے مابین لڑائی کا باعث ”ٹماٹر” ٹھہرے تھے ‘ مگر اب جبکہ اتنے بڑے بین الاقوامی فوڈ چین میکڈونلڈ ‘ سب وے اور برگرق کنگ نے بھی ٹماٹروں کے معیار اور مہنگائی کی وجہ سے عدم دستیابی کے پیش نظر ہاتھ اوپر اٹھا لئے ہیں اور توبہ تائب ہوکراپنے گاہکوں کو صبر کی تلقین پراتر آئے ہیں ‘ تو مدھیا پردیش کے ضلع شہدول کے معمولی ڈھابے والے میاں بیوی کی کیا حیثیت ہے کہ وہ کھانوں میں ٹماٹروں کاڈھیر لگا کر اسے ذائقہ دار بناتے رہیں ۔ امید ہے کہ اب تک ان کا مسئلہ بھی حل ہو چکا ہو گا کیونکہ ٹماٹروں کا جو”حشر” بھارت میں ہو رہاہے یا بہ الفاظ دیگر ٹماٹر بھارتیوں کا جوحشر کر رہے ہیں ‘ اس کے بعد ڈھابے والے بابو اپنی بیگم کے ساتھ سہمت ہوتے ہوئے اس کی نصیحت پرعمل کرنے پر مجبو ہو چکا ہوگا تو پھر ناراضی کیسی؟ یعنی بقول شاعر
وہ مری سوچ سے خائف ہے تو اس سے کہنا
مجھ میں اڑتے ہوئے طائر کو تہہ دام کرے
ویسے اس صورتحال سے جب ٹماٹروں کی کم مقدار سے ذائقہ خراب ہونے کی نوبت آچکی ہے ‘ اس کا علاج پرانی داستانوں میں موجود ایک کردار”لیموں نچوڑ” کے طریقہ واردات سے ممکن ہے یعنی موصوف دوران سفر ہمیشہ لیموں ایک تھیلے میں بھر کر ساتھ رکھتے تھے اور سرایوں (تب ہوٹل نہیں ہوتے تھے اور مسافر راستوں میں قائم سرایوں میں قیام طعام کرتے تھے) میں رک کر عین دوپہر اور رات کے کھانوں کے اوقات میں کسی نہ کسی دوسرے مسافر کے کمرے میں جا کر علیک سلیک کرکے گپ شپ میں مصروف ہوجاتے ‘ اس دوران سرائے کے ملازم کھانے کا آرڈر لینے آجاتے تو مکین اپنے”بن بلائے” مہمان سے ازراہ ”شرم و حیا” پوچھ لیتے کہ آپ کھانا کھائیں گے تو لیموں نچوڑ کرسرائے کے ملازم سے پوچھتا آپ کے ہاں لیموں مل جائے گا’ ظاہر ہے جواب نفی میں ہوتا تو یہ کہتا’ سالن پرلیموں نچوڑنے سے سواد میں جو ا ضافہ ہوتا ہے اس کا کیا ہی کہنا ‘ پھر کہتا چلیں آپ کھانا منگوا لیں میں دیکھتا ہوں شاید ایک آدھ میرے پاس نکل آئے ‘اور وہ اپنے کمرے سے لیموں اٹھا کر لے آتا اور ساتھی مسافر کی جانب سے منگوائے گئے سالن پر نچوڑ کرمزے سے دعوت اڑا لیتا ۔ تو صورتحال اسی سمت جاتی دکھائی دیتی ہے یعنی اب لوگ ایک ٹماٹر اپنے تھیلے میں ڈال کر کسی ڈھابے پر”مہمان” بننے کے لئے جا کر کسی بھی شخص کو”ٹماٹر” کا لالچ دے کراس کے پیسوں پر ”دعوت شیراز”اڑانے کی ترکیب سے بھر پور استفادہ کریں گے ۔ تاہم اگر بھارتی کسان چند برس پہلے غرور اورتکبر کا اظہار کرتے ہوئے ٹماٹروں کی پوری فصل پائوں تلے کچل کر اس سے پاکستان کو محروم نہ رکھتے توشاید آج پورے بھارت میں یہ صورتحال جنم نہ لیتی۔
جب جھومے میرا گھاگرا
تو جھومے دلی ‘ آگرہ